ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / رام کی ایودھیا میں پیدائش عقیدہ کا معاملہ، تین طلاق کیوں نہیں؟مسلم لاء بورڈ

رام کی ایودھیا میں پیدائش عقیدہ کا معاملہ، تین طلاق کیوں نہیں؟مسلم لاء بورڈ

Tue, 16 May 2017 21:54:18    S.O. News Service

نئی دہلی،16/مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ میں منگل کو چوتھے دن بھی تین طلاق پر سماعت جاری رہی۔آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈنے اپنی دلیل میں کہا ہے کہ اگر رام کی ایودھیا میں پیدائش عقیدہ کا موضوع ہو سکتا ہے، تو تین طلاق بھی عقیدہ کا مسئلہ ہے۔اس پر سوال نہیں اٹھایا  جانا چاہیے۔غورطلب ہے کہ سپریم کورٹ میں اس مسئلے پر لگاتار سماعت ہو رہی ہے،یہ سماعت چیف جسٹس جے ایس کھیہر کی قیادت والی 5ججوں کی آئینی بنچ کر رہی ہے۔بورڈ کی طرف سے دلیل دیتے ہوئے کپل سبل نے کہا کہ تین طلاق 637عیسوی سے چلاآرہا ہے، اسے غیر اسلامی بتانے والے ہم کون ہوتے ہیں؟ مسلمان اسے 1400سال سے مانتے آرہے ہیں، یہ عقیدہ کا معاملہ ہے، جیسے فرض کیجئے، میرا ایمان رام پر ہے اور میرا یہ ماننا ہے کہ رام کی پیدائش ایودھیا میں ہوئی ہے، اگر رام کو لے کر عقیدہ پر سوال نہیں اٹھائے جا سکتے، تو تین طلاق پر کیوں؟ یہ سارا معاملہ عقیدہ سے جڑاہوا ہے۔پرسنل لاء قرآن اور حدیث سے ماخوذ ہے، کیا عدالت قرآن میں لکھے لاکھوں الفاظ کی تشریح کرے گا؟ آئین، اخلاقیات اور مساوات کا اصول تین طلاق پر لاگو نہیں ہو سکتا، کیونکہ یہ عقیدہ سے جڑا معاملہ ہے۔کپل سبل نے کہا کہ آئین تمام مذاہب کے پرسنل لاء کو منظوری دیتا ہے،ہندو مذہب میں جہیز کے خلاف قانون ہے، لیکن رواج کے طور پر اسے لیا جا سکتا ہے، لیکن مسلمانوں کے معاملے میں عقیدہ کو آئین کے خلاف بتایا جا رہا ہے۔عدالت کو اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، ورنہ سوال اٹھے گا۔سبل نے کہا کہ شریعت پرسنل لاء ہے، بنیادی حقوق سے اس کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا، مذہب میں اگر خرابی ہے، تو ہمیں لوگوں کو اس کے بارے میں بیدار کرنا چاہیے۔
 


Share: